Tuesday, April 21, 2026
Google search engine
الرئيسيةپاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ کا فائنل راؤنڈ

پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ کا فائنل راؤنڈ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مارچ2026ء) ملک کے صنعتی بجلی صارفین کیلئے آپشنل ملٹی ٹیرف نظام متعارف کرانے پر غور شروع کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے صنعتی صارفین کی سہولت اور بجلی کے مؤثراستعمال کے لیے ایک نیا اقدام سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، جس کے تحت پاور ڈویژن صنعتی صارفین کیلئے نیا آپشنل ملٹی ٹیرف نظام متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) صنعتی صارفین کی سہولت اور بجلی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا آپشنل ملٹی ٹیرف ٹائم آف یوز (ToU) نظام متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایت پر اس حوالے سے محکمہ کی جانب سے متعدد مشاورتی اور تکنیکی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت صنعتی صارفین کو ملٹی سلیب ٹیرف ڈھانچے میں شامل ہونے کا اختیار دیا جائے گا، جس میں بجلی کی قیمتوں کا تعین مختلف اوقات میں اوسط مارجنل لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا تاکہ بجلی کی اصل لاگت کی بہتر عکاسی ہو سکے، اس سلسلے میں ٹیرف کے 2 بنیادی حصے ہوں گے، جن میں ایک فکسڈ چارجز ہے جو زیادہ سے زیادہ طلب کے اعشاریوں کی بنیاد پر مقرر کیے جائیں گے اور نسبتاً زیادہ ہوں گے تاکہ صارفین کو ان کی زیادہ سے زیادہ طلب کو کم کرنے کی ترغیب دی جائے۔ بتایا جارہا ہے کہ دوسرا ویری ایبل انرجی چارجز ہوں گے جنہیں حقیقی توانائی لاگت کے مطابق کم اور متوازن کیا جائے گا، مجوزہ نظام سے صنعتی شعبے کو مختلف فوائد حاصل ہوں گے جن میں کم لاگت والے اوقات میں بجلی کے استعمال کو بڑھا کر لوڈ مینجمنٹ کو بہتر بنانا، آف پیک اوقات میں بجلی کے استعمال کو فروغ دینا، گرڈ پر دباؤ کم کرنا اور مہنگی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت کو محدود کرنا شامل ہے۔ ذرائع سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے صنعتی پیداوار اور مسابقت میں بہتری آنے کے ساتھ توانائی کے اخراجات میں پیشگوئی اور کمی بھی ممکن ہوگی، وفاقی وزیر نے تکنیکی تجاویز کے بعد ہدایت کی ہے کہ مجوزہ نظام کو مؤثر اور جامع بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین سے وسیع مشاورت کی جائے، اس سلسلے میں صنعتی صارفین، چیمبرز آف کامرس اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت کی جائے گی اور ان کی آرا کو حتمی میکنزم میں شامل کیا جائے گا، جس کے لیے پہلا مشاورتی اجلاس 26 مارچ کو آن لائن ہوگا۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine

الأكثر شهرة

احدث التعليقات